مسافروں کو سہولیات کی فراہمی میں غفلت، پی آئی اے پر ایک کروڑ جرمانہ عائد

قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اےکو اندرونی انتظامی مشکلات اور مالی بحران کے ساتھ ساتھ اب ایک اور بڑےچیلنج کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی پی اے اے نے مسافروں کو ایئرپورٹس پر نامناسب اور ناقص سہولیات فراہم کرنے کے پاداش میں قومی ایئر لائن پر اک کروڑ روپے سے زائد کا بھاری بھرکم جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ اس اقدام سے قومی ادارے کی کارکردگی اور انتظامی امور پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں جو پہلے ہی شدید مالی کٹھٹن دور سے گزر رہا ہے۔موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق، پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے حکام نے مسافروں کو درپیش مسائل اور ایئرپورٹ حدود میں فراہم کی جانے والی خدمات کا باریک بینی سے جائزہ لیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پی آئی اے کی جانب سے مسافروں کے لیے طے شدہ بین الاقوامی اور ملکی معیار کے مطابق سہولیات کا فقدان تھا، جس میں مسافر لاؤنجز، سامان کی بروقت ترسیل، اور مسافروں کی راہنمائی کے امور شامل ہیں۔ ان خامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پی اے اے نے ضابطے کی کارروائی کرتے ہوئے یہ جرمانہ عائد کیا ہے۔ماہرینِ معاشیات اور ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پہلے سے ہی خسارے میں چلنے والے قومی ادارے پر اتنی بڑی رقم کا جرمانہ عائد ہونا اس کے مالی بوجھ میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ پی آئی اے کے اپنے افسران اور انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور نااہلی کی وجہ سے ادارے کو نہ صرف مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے بلکہ مسافروں کے سامنے قومی سطح پر اس کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری جانب، مسافروں اور عوامی حلقوں نے پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فضائی سفر کرنے والے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹکٹوں کی بلند و بالا قیمتیں وصول کرنے کے باوجود مسافروں کو جو اذیت اور نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ ناقابلِ برداشت ہے۔ پی آئی اے انتظامیہ کو فوری طور پر اپنی صفوں میں بہتری لانے اور اس جرمانے کے اسباب کا جائزہ کر متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف سخت تضبطی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔