بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں غفلت اور نااہلی کا ایک اور دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایری گیشن کالونی میں کھلے ہوئے گٹر میں گر کر دو معصوم بچیاں جان کی بازی ہار گئیں۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جنہوں نے متعلقہ محکمے کے حکام کی مجرمانہ غفلت کو اس سانحے کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق دونوں بچیاں گھر کے قریب کھیل رہی تھیں کہ کھلے اور بغیر ڈھکن کے گٹر میں جا گریں واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور مقامی افراد کی مدد سے بچیوں کو گٹر سے باہر نکالا گیا۔ انہیں تشویشناک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بچیوں کی عمریں تین اور پانچ برس کے درمیان تھیں، جن کی اچانک موت سے ان کے گھر میں کہرام مچ گیا اور والدین سمیت تمام اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے۔مقامی شہریوں نے اس دلخراش واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ غفلت کے مرتکب ذمہ داران کے خلاف فوری طور پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں مین ہولز کے ڈھکن غائب ہیں اور متعدد بار شکایات درج کروانے کے باوجود میونسپل کارپوریشن اور ایری گیشن ڈپارٹمنٹ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، جس کے نتیجے میں آج معصوم جانیں ضائع ہو گئی ہیںدوسری جانب، ضلعی انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دینے اور غفلت کے ذمہ داران کا تعین کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بھی اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ صوبے بھر میں کھلے گٹروں کو فوری طور پر ڈھانپا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے کسی بھی سانحے سے بچا جا سکے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔