نئے صوبوں کا معاملہ

نئے صوبوں کا معاملہ: پاکستان کے مستقبل کے لیے سنجیدہ چیلنج

اسلام آباد: نئے صوبوں کا معاملہ پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی سنجیدہ چیلنج ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی اور اقتصادی پہلوؤں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے عوامی رائے اور سیاسی جماعتوں کی مشاورت ضروری ہے۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ نئے صوبوں کا قیام ملک کی وفاقی ساخت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے، لیکن اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں نئے صوبوں کا قیام ہمیشہ ایک متنازعہ موضوع رہا ہے، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ رانا ثنا اللہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کو عوام کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے عوامی مشاورت کے بغیر کوئی بھی فیصلہ درست نہیں ہوگا۔

آخر میں، رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ پاکستان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنا ضروری ہے تاکہ ملک کی ترقی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔