اسلام آباد: سی ڈی اے چیئرمین کا نوٹس جاری کیا گیا ہے جس کا مقصد 26 سال پرانے عدالتی فیصلے کی عدم عملداری پر وضاحت طلب کرنا ہے۔ اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے یہ نوٹس جاری کیا ہے اور سی ڈی اے کے چیئرمین کو اگلی سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ کیس محمد راشد بمقابلہ چیئرمین سی ڈی اے کے عنوان سے درج ہے۔
<pیہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب عدالت نے دیکھا کہ سی ڈی اے نے عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا۔ اس فیصلے کے تحت، شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت کے جج ناصر الدین نے اس معاملے کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین کو ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
<pعدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر چیئرمین سی ڈی اے اگلی سماعت پر پیش نہیں ہوتے تو ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ یہ معاملہ شہریوں کے حقوق اور ان کی زمینوں کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس فیصلے کے بعد، شہریوں میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
<pیہ کیس نہ صرف سی ڈی اے کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ عدالتیں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کتنی سنجیدہ ہیں۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران، عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے گا۔