اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور پارٹی رہنما شاندانہ گلزار کے درمیان اندرونی اختلافات کھلم کھلا سامنے آ گئے ہیں، جس کے بعد پارٹی صفوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ علی امین گنڈاپور نے واٹس ایپ گروپ میں شاندانہ گلزار کے تند و تیز پیغامات کا جواب دیتے ہوئے سخت الفاظ کا استعمال کیا اور انہیں اپنے کام سے کام رکھنے کی ہدایت کر دی۔
پارٹی واٹس ایپ گروپس میں تلخ جملوں کا تبادلہ
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے اعلیٰ سطحی واٹس ایپ گروپس میں رہنماؤں کے درمیان زبانی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب شاندانہ گلزار نے پارٹی امور اور کچھ فیصلوں پر شدید تنقید کی۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے انتہائی برہمی کا اظہار کیا اور لکھا کہ “او میڈیم! آپ ہر گروپ میں شروع ہو جاتی ہیں، مہربانی کریں اور اپنے کام سے کام رکھیں۔”
اس واقعے کے بعد پی ٹی آئی کے مختلف واٹس ایپ گروپس میں سناٹا چھا گیا اور متعدد سینئر رہنماؤں نے دونوں شخصیات کو معاملہ فہمی اور تحفظات کو نجی سطح پر حل کرنے کا مشورہ دیا۔ تاہم دونوں رہنماؤں کی جانب سے دیے گئے بیانات نے سیاسی حلقوں میں ایک نیا بحث کا در وا کر دیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی تنقید کا موقع مل گیا ہے۔
اندرونی اختلافات اور مرکزی قیادت کی تشویش
پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام اراکین کو ہدایت کی ہے کہ وہ پارٹی کے اندرونی مسائل اور اختلافات کو عوامی یا سوشل میڈیا گروپس میں لانے سے گریز کریں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی عدم موجودگی میں پارٹی کے اندر بظاہر دھڑے بندی اور کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، جس پر نچلے درجے کے کارکنان میں سخت مایوسی پائی جاتی ہے۔
علی امین گنڈاپور اور شاندانہ گلزار دونوں ہی خیبرپختونخوا کی سیاست اور پی ٹی آئی کے انتظامی امور میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ شاندانہ گلزار کی جانب سے اس سے قبل بھی پارٹی کی حکمت عملی اور پارلیمانی رویوں پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، جبکہ علی امین گنڈاپور کا شمار عمران خان کے انتہائی اعتماد والے ساتھیوں میں ہوتا ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو اس وقت جہاں قانونی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، وہاں پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی یہ تلخیاں تنظیم کو مزید کمزور کر سکتی ہیں۔ علی امین گنڈاپور جیسے سینئر رہنماؤں کی جانب سے اس نوعیت کے ردعمل سے پارٹی ڈسپلن پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ کارکنان کا مطالبہ ہے کہ تمام قیادت متحد ہو کر درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرے۔
فی الوقت اس تنازع پر پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی یا بانی چیئرمین کے وکلا کی جانب سے کوئی باضابطہ حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر بات چیت کے ذریعے صلح صفائی کی کوششیں تیز کی جائیں گی تاکہ مزید گروہ بندی سے بچا جا سکے۔