بھاری حق مہر

بھاری حق مہر: والدین مالی تحفظ کے لیے کیا چاہتے ہیں؟

اسلام آباد: بھاری حق مہر کے حوالے سے اداکار ہارون شاہد نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض والدین بیٹی کے مالی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھاری حق مہر کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف معاشرتی بلکہ ثقافتی پہلوؤں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ہارون شاہد نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام بعض اوقات والدین کی مالی حالت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ اپنی بیٹی کی مستقبل کی حفاظت کے لیے اس طرح کے مطالبات کرتے ہیں۔

ہارون شاہد نے مزید کہا کہ بھاری حق مہر کا مطالبہ بعض اوقات معاشرتی دباؤ کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی کی شادی ایک محفوظ اور مستحکم مالی بنیاد پر ہو۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یہ رویہ بعض اوقات لڑکیوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ ان کی شادی کے مواقع کو متاثر کرتا ہے۔

اداکار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمیں اس مسئلے پر کھل کر بات کرنی چاہیے اور معاشرتی تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ لڑکیوں کے والدین کو اس طرح کے بھاری حق مہر کے مطالبات سے گریز کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے بغیر، یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

آخر میں، ہارون شاہد نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ہمیں لڑکیوں کے حقوق اور ان کی مالی آزادی کو فروغ دینا چاہیے تاکہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں۔ یہ ایک اہم قدم ہوگا جو نہ صرف لڑکیوں کی زندگیوں میں بہتری لائے گا بلکہ معاشرتی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔