اسلام آباد: ٹرمپ کو نوبیل انعام نہ ملنے پر ناروے تارکین وطن مشکلات کا شکار ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں ناروے کے تارکین وطن کو خوش آمدید کہنے سے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں ان تارکین وطن کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ ریاست مشیگن میں مڈٹرم الیکشن کے سلسلے میں ایک ریلی کے دوران پیش آیا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ناروے کے تارکین وطن کی آمد کا خیرمقدم نہیں کیا جائے گا، جس سے ان کی مقامی کمیونٹی میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ اس بیان کے بعد، ناروے کے تارکین وطن نے اپنی مشکلات کے بارے میں بات کی، جن میں روزگار کے مواقع کی کمی اور معاشرتی قبولیت کی کمی شامل ہیں۔
مقامی رہنماؤں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات تارکین وطن کی زندگیوں پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تارکین وطن کے حقوق کا تحفظ کرے اور ان کی مدد کے لیے اقدامات کرے۔
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح سیاسی بیانات تارکین وطن کی زندگیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ناروے کے تارکین وطن نے اس صورتحال کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپنی مشکلات کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں۔