بھارت میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں اُس وقت ایک نیا طوفان برپا ہو گیا جب ’کاکروچ‘ کے نام سے معروف نوجوان مظاہرین نے ملک کے چیف الیکشن کمشنر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں 48 گھنٹے کے اندر اندر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا الٹی میٹم دے دیا۔ مظاہرین نے وارننگ دی ہے کہ اگر مقررہ وقت کے اندر استعفیٰ نہ دیا گیا تو پورے ملک میں دھرنوں اور شدید احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
اس ہنگامہ خیز پریشر گروپ کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ سی جے پی ہے، جو دراصل طنزیہ مزاح اور سوشل میڈیا کے ردعمل کے نتیجے میں جنم لینے والا ’جین زی‘ Gen-Z نسل کا ایک متحرک گروپ ہے۔ اس نوجوان تنظیم نے حالیہ برسوں کے دوران طلبہ کے سب سے بڑے اور مؤثر احتجاجی مظاہروں میں سے ایک کی قیادت کی تھی، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ میں شامل وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا تھا اور انہوں نے مجبور ہو کر استعفیٰ دیا تھا
سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے جمعرات کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفیٰ کا مطلبہ کیا۔ یہ سخت قدم ایک اہم میڈیا رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ووٹر لسٹوں میں مشکوک تبدیلیوں کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر کے ماتحت کام کرنے والے اعلیٰ عہدے داروں نے ان سے بار بار سوالات کیے اور اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ معروف بھارتی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، دو الیکشن کمشنروں نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ تحریری یا زبانی طور پر سوالات اُٹھائے، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔