آبنائے ہرمز کی فوری بحالی اقوام متحدہ میں 80 ممالک کا شدید مطالبہ

بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحال کرنے اور تمام پابندیاں ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر دنیا بھر کے 80 سے زائد ممالک یکجا ہو گئے ہیں۔ اس اہم پیش رفت کے دوران عالمی برادری نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف عالمی معیشت کو تباہ کن نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ اس سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی متوقع ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق، اس مشترکہ مطالبے کا مقصد علاقائی کشیدگی کو کم کرنا اور بین الاقوامی سمندری قوانین کے تحت جہاز رانی کی آزادی کو بلا تعطل یقینی بنانا ہے۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری اور سلامتی کونسل کے اراکین کو پیش کی جانے والی اس مشترکہ قرارداد میں تمام فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مختلف ممالک کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، اور اس اہم آبی راستے کو کسی بھی جغرافیائی سیاسی تنازع کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ عالمی رہنماؤں نے زور دیا کہ اس بحران کا پرامن سفارتی حل تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ دنیا بھر بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو توانائی کے سنگین بحران سے بچایا جا سکے جو پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کی زد میں ہیں۔دوسری جانب، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سفارتی پیش رفت کے پاکستان اور خطے کی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو توانائی کی درآمدات کے لیے عالمی منڈیوں پر منحصر ہیں، اس بحری راستے کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرینِ اقتصادیات نے حکومتِ پاکستان اور وزارتِ خارجہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عالمی برادری کے اس اقدام کی بھرپور حمایت کریں اور خلیجی خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں فعال کردار ادا کریں تاکہ پاکستان کے تجارتی مفادات اور توانائی کے تسلسل کو ہر ممکن طریقے سے محفوظ بنایا جا سکے