امریکا اور چین کا باہمی تعاون عالمی سلامتی

چینی صدر شی جن پنگ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ چین اور امریکا کے درمیان قریبی تعاون کے بغیر دنیا بھر میں درپیش کئی پیچیدہ مسائل کا حل ناممکن ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، چینی صدر نے اپنے ایک اہم پالیسی بیان میں دونوں عالمی طاقتوں کے مابین خوشگوار اور مست کم تعلقات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور کے معاشی و سیاسی چیلنجز اس امر کے متقاضی ہیں کہ واشنگٹن اور بیجنگ باہمی محاذ آرائی کو بالائے طاق رکھ کر اشتراک عمل کی راہ اپنائیں، کیونکہ عالمی امن اور معاشی ترقی کا انحصار بڑی حد تک دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ چینی صدر نے امریکی کاروباری برادری کو خوش آمدید کہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چینی مارکیٹ کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں اور بیجنگ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی انتظامیہ بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست ہائے متحدہ امریکا میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کے ساتھ منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور مساویانہ برتاؤ کو یقینی بنائے گی۔ صدر شی نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ تجارتی تعلقات کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے تاکہ عالمی سپلائی چین متاثر نہ ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، چینی صدر کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر تجارتی اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں نئی انتظامیہ کے امور سنبھالنے کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے، جس میں تعاون اور رقابت دونوں کے عناصر بیک وقت موجود ہیں۔ عالمی رہنماؤں کی جانب سے اس بیان کا خیرمقدم کیا جا ہے، اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں معاشی توازن قائم رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی سطح پر کساد بازاری اور دیگر بحرانوں سے نمٹنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔