مقبوضہ کشمیر میں شادیوں کا سیزن سیاسی مفاہمت یا معاشرتی بے حسی

انڈیا کے زیر انتظام وادی کشمیر میں ستمبر اور اکتوبر کے مہینے روایتی طور پر ‘شادی سیزن’ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ اس دوران فصلوں بالخصوص شالی اور سیبوں کی پیداوار سمیٹنے کے بعد رشتوں کو جوڑنے اور تقریبات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جو خطے کی ثقافتی اور معاشرتی زندگی کا ایک اہم ترین حصہ ہےشادی بیاہ کی ان تقریبات میں باہمی میل جول، ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے اور روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہونے کی طویل روایت رہی ہے۔ ماضی میں نظریاتی اختلاف رکھنے والے افراد اور سیاسی حریف بھی ان تقریبات میں شرکت کرتے تھے، تاہم نوے کی دہائی کے آغاز میں جب خطے میں سیاسی و عسکری تبدیلیاں آئیں اور معاشرہ واضح نظریاتی لکیروں میں تقسیم ہو گیا، تو صورتحال یکسر بدل گئیایک وقت ایسا بھی آیا جب پرو انڈیا سمجھے جانے والے سیاست دانوں کو روپوش ہونا پڑا یا وادی سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ اس دور میں آزادی پسند حلقے ہر تقریب کا لازمی حصہ ہوتے تھے اور ان کی موجودگی کو باعثِ تکریم سمجھا جاتا تھا، جبکہ اب بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں شادی بیاہ کی تقریبات کے رنگ بھی تبدیل ہو چکے ہیں