یورو نوٹس کی آمد سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، یورو نوٹس کی مد میں بڑی رقم موصول ہونے کے بعد ملک کے کُل زرمبادلہ کے ذخائر میں خوش آئند اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین کیش ان فلو سے ملکی معیشت کو شدید دباؤ کے اس دور میں ایک بار پھر طاقت ملی ہے اور بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ مرکزی بینک کے مطابق اس مالیاتی پیش رفت سے بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ بہتر ہوگی اور درآمدی بل کی ادائیگیوں سمیت بیرونی قرضوں کی بروقت واپسی کے عمل کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا، جو ملکی معیشت کی بہتری کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں اور بینکاری کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والا یہ اضافہ درحقیقت ملکی معیشت کے استحکام اور بیرونی کھاتوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ناگزیر تھا۔ ان کے مطابق، جب بھی بین الاقوامی ذرائع سے اس نوعیت کے فنڈز موصول ہوتے ہیں، تو اس سے نہ صرف روپے کی قدر کو سہارا ملتا ہے بلکہ ز مبادلہ کی مارکیٹ میں غیر ضروری ہیجان اور قیاس آرائیوں کا بھی خاتمہ ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی موثر پالیسیوں اور بروقت اقدامات کی بدولت ملک کے مالیاتی اشاریے بتدریج بہتری کی راہ پر گامزن ہیں، جس سے تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کو بھی طویل المدتی بنیادوں پر فروغ حاصل ہو رہا ہے۔

دوسری جانب، کاروباری حلقوں اور تاجر برادری نے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک نویدِ سحر قرار دیا ہے۔ کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام کے بغیر ملکی ترقی کا خواب تعبیر نہیں ہو سکتا، اور اس طرح کے مثبت مالیاتی اشارے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومت اور مرکزی بینک کو چاہیے کہ وہ برآمدات میں اضافے اور ترسیلاتِ زر کو بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کریں تاکہ ملک کو پائیدار معاشی خود کفالت کی منزل سے ہمکنار کیا جا سکے اور عام آدمی تک اس کے ثمرات پہنچائے جا سکیں۔