بلوچستان میں لیتھیم کے ذخائر اور بڑھتی ہوئی اہمیت کا تنازعہ

کوئٹہ: رقبے کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں قدرتی معدنیات کی دولت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، تاہم دنیا بھر میں ‘وائٹ گولڈ’ یعنی لیتھیم کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے بعد اب اس خطے میں بھی اس قیمتی معدنیات کے حوالے سے بحث اور چہ مگوئیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ عالمی منڈی میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ لیتھیم کی طلب میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے ترقی پذیر ممالک کے معدنی وسائل سے مالامال خطوں کی توجہ اپنی جانب کروا لی ہے۔
گذشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز)، سمارٹ موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور قابلِ تجدید توانائی کے دیگر ذرائع کی طرف منتقلی تیزی سے جاری ہے۔ اس تمام تکنیکی انقلاب کی بنیاد لیتھیم آئن بیٹریوں پر رکھی گئی ہے جو کہ نسبتاً ہلکی، زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کی حامل اور طویل عرصہ تک کارآمد رہنے کی وجہ سے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بھی ان معدنی ذخائر کی تلاش اور ان کے مؤثر استعمال کے لیے حکومتی اور نجی سطح پر کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

کوئٹہ:
ماہرین کے مطابق بلوچستان میں روان سال ہی میں تانبے، سونے اور لیتھیم کے نئے ذخائر کی موجودگی کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئی ہیں، اگرچہ فی الحال سرکاری طور پر ان ذخائر کی کوئی مصدقہ مقدار ٹن یا ملین ٹن کی صورت میں ظاہر نہیں کی گئی۔ تاہم، جیولوجیکل سروے اور مختلف تحقیقی مطالعات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اگر ان معدنیات کو شفاف اور ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے نکالا جائے تو یہ پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتے ہیں اور صوبے میں جاری معاشی محرومیوں کا ازالہ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔