اسلام آباد:وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک کی جانب سے ٹیلی ویژن پر وزیراعظم پٹرولیم ریلیف اسکیم کی افادیت اجاگر کرنے کے لیے اپنایا گیا اندازِ بیان سیاسی اور معاشی حلقوں میں بحث کا نیا موضوع بن گیا ہے۔ وزیر موصوف نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے اسکیم کے مبینہ ثمرات سمجھانے کے لیے فرضی کرداروں کا سہارا لیا اور دعویٰ کیا کہ ان کرداروں کی زندگیوں میں اس ریلیف پیکیج کے ذریعے نمایاں خوشحالی آئی ہے۔ پٹرولیم کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین اور حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اس طریقہ کار کو حقائق سے زیادہ افسانہ نگاری قرار دیتے ہوئے کڑے سوالات اٹھائے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام بالخصوص موٹر سائیکل سواروں، رکشا ڈرائیوروں اور 800 سی سی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے خصوصی پٹرول ریلیف پیکیج کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی لانا اور عام آدمی کو براہ راست ریلیف فراہم کرنا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس انقلابی اقدام سے نچلے طبقے کو مہنگائی کے طوفان سے بچانے میں مدد ملے گی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور عوامی سطح پر اس اسکیم کے فوائد تاحاصل غیر واضح ہیں۔
ٹی وی شو کے دوران وزیر پٹرولیم کی طرف سے پیش کی گئی فرضی کہانیوں اور کرداروں کی مبینہ خوشحالی پر سوشل میڈیا پر بھی ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد کا یہ ماننا ہے کہ میڈیا پر روایتی اور فرضی مثالیں دینے کے بجائے حکومت کو ٹھوس اعداد و شمار اور شفاف پالیسی کے ذریعے یہ بتانا چاہیے کہ عام شہریوں کو پٹرول پر یہ سبسڈی کس لائحہ عمل کے تحت اور کتنے عرصے تک فراہم کی جائے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ مہنگائی کے دور میں عوام کو محض زبانی جمع خرچ یا خیالی کہانیوں سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا بلکہ انہیں فوری اور عملی ریلیف کی ضرورت ہے۔