لاہور:صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا ایک اور انوکھا اور حیرت انگیز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں سٹی ٹریفک پولیس نے چیکنگ کے دوران ایک ایسی موٹر سائیکل کو تحویل میں لے لیا ہے جس پر مجموعی طور پر 104 چالان واجب الادا تھے۔ ٹریفک حکام کے مطابق شہر کے مصروف ترین علاقے میں معمول کی ناکہ بندی اور روٹین چیکنگ کے دوران پٹرولنگ افسر نے جب ایک موٹر سائیکل سوار کو روکا تو کاغذات اور آن لائن ریکارڈ چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ اس دو چرخہ سواری پر جرمانوں کا ایک طویل پہاڑ کھڑا ہے۔ موٹر سائیکل کے مالک کی جانب سے طویل عرصے سے ٹریفک قوانین کی مسلسل دھجیاں اڑائی جا رہی تھیں اور کسی بھی مقام پر جرمانوں کی ادائیگی کو یقینی نہیں بنایا گیا تھا۔
محکمہ ٹریفک پولیس کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار اور ڈیجیٹل سسٹم کے مطابق پکڑی جانے والی اس موٹر سائیکل پر ایک لاکھ 97 ہزار 200 روپے کے چالان کے واجبات موجود ہیں۔ قانون شکن موٹر سائیکل سوار نے شہر کے مختلف شاہراہوں پر کیمروں اور وارڈن کی جانب سے کیے جانے والے اشاروں اور قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کی تھی، جس کے نتیجے میں جرمانے جمع ہوتے ہوتے تقریباً دو لاکھ روپے تک جا پہنچے۔ پٹرولنگ افسر نے جب بظاہر ایک معمولی معاملے پر گاڑی کو روکا تو سسٹم پر موٹر سائیکل کا سابقہ ریکارڈ دیکھ کر خود نگران عملہ بھی دنگ رہ گیا، کیونکہ شہر کی تاریخ میں اتنے زیادہ چالان ایک ہی موٹر سائیکل پر شاید ہی کبھی دیکھے گئے ہوں۔
حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر اس موٹر سائیکل کو صرف ہیلمٹ نہ پہننے کی عام سی خلاف ورزی پر روکا گیا تھا، جو کہ روٹین کی کارروائی کا حصہ تھا۔ تاہم، جب موقع پر ہی جدید ڈیجیٹل ڈیوائس کے ذریعے بائیومیٹرک اور نمبر پلیٹ کی جانچ پڑتال کی گئی تو اس ہوشربا انکشاف نے سب کو حیران کر دیا۔ ٹریفک حکام نے موقع پر ہی کارروائی کرتے ہوئے موٹر سائیکل کو فوری طور پر تحویل میں لے کر قریبی تھانے یا ٹریفک سیکٹر منتقل کر دیا ہے تاکہ واجب الادا رقم کی وصولی کو یقینی بنایا جا سکے اور قانون کی عملداری کو برقرار رکھا جا سکے۔
چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور اور دیگر اعلیٰ حکام کا اس سنگین معاملے پر کہنا ہے کہ شہر بھر میں نادہندہ گاڑیوں اور موٹر سائیکل کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایسے عناصر جو قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہیں اور جرمانے ادا کرنے سے گریزاں رہتے ہیں، اب قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ پولیس حکام کا واضح عزم ہے کہ تمام بقایاجات کی مکمل وصولی اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی اس موٹر سائیکل کو اس کے اصل مالک کے حوالے کیا جائے گا، تاکہ یہ واقعہ دوسرے شہریوں کے لیے بھی عبرت کا نشان بنے۔