لاہور: صوبائی دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیاں اس وقت مزید تیز ہو گئیں جب اپوزیشن کی جانب سے حکومتِ پنجاب سے سرکاری فنڈز کے بے دریغ استعمال اور اشتہاری اخراجات کی مفصل تفصیلات سامنے لانے کا باضابطہ مطالبہ کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی کے اندر اپوزیشن کے سرکردہ رکن وقاص محمود کی جانب سے ایک اہم تحریک التوا جمع کروائی گئی ہے، جس میں مالی سال 2024 سے لے کر 2026 تک کے دوران قومی خزانے سے پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا پر جاری ہونے والے اشتہارات پر اٹھنے والے اخراجات کا حساب کتاب مانگا گیا ہے۔
جمع کروائی گئی تحریک التوا کے متن میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب صوبے کے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور بنیادی ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی قلت کا رونا رویا جا رہا ہے، سرکاری خزانے سے من پسند میڈیا ہاؤسز اور تشہیری مہمات پر اربوں روپے کے اخراجات کیے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن ارکان کا مؤقف ہے کہ عوامی ٹیکسوں سے جمع ہونے والی اس رقم کا شفاف استعمال جمہوریت کا تقاضا ہے اور عوام کو یہ جاننے کا پورا حق حاصل ہے کہ ان کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں میں اس تحریک التوا کے بعد ہلچل مچ گئی ہے اور حکومت کی جانب سے سے اس معاملے پر تاحال کوئی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ اگر اسمبلی کے فلور پر حکومت نے یہ اعداد و شمار پیش نہ کیے تو اس سے حکومت مخالف تحریک کو مزید تقویت ملے گی۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے اس اہم تحریک التوا کو ایجنڈے کا حصہ بنانے اور اس پر بحث کرانے کے لیے آئندہ چند روز میں کارروائی متوقع ہے، جو کہ حکومتی بینچوں کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔