برمنگھم: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ کل سے برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔قومی ٹیم سیریز پہلے ہی ہار چکی ہے، تاہم وائٹ واش سے بچنے کے لیے پاکستان کو آخری ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنا یا میچ ڈرا کرنا لازمی ہوگا۔تیسرے ٹیسٹ میں غازی غوری کو ٹیسٹ ڈیبیو کرائے جانے کا امکان ہے، جبکہ عمران رندھاوا کی پلیئنگ الیون میں شمولیت اور صائم ایوب کی واپسی کے بھی امکانات ہیں۔ایجبسٹن گراؤنڈ پر پاکستان کا ریکارڈ انتہائی خراب رہا ہے اور قومی ٹیم آج تک اس میدان میں ایک بھی ٹیسٹ میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ایجبسٹن میں اب تک 8 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے ہیں، جن میں سے پاکستان کو 5 میچز میں شکست ہوئی جبکہ 3 میچز بے نتیجہ رہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ پاکستانی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کسی بھی کھلاڑی نے ایجبسٹن میں اس سے قبل ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا۔دوسری جانب ایجبسٹن کا میدان پاکستان کے موجودہ ٹیسٹ کپتان اور اسٹار بیٹر بابر اعظم کے لیے خوش بختی کی علامت رہا ہے۔ بابر اعظم نے یہاں 4 ون ڈے میچز میں 2 سنچریوں کی مدد سے 298 رنز بنائے ہیں۔
بابر اعظم نے 2019 کے آئی سی سی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایجبسٹن میں 101 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی تھی، جبکہ جولائی 2021 میں میزبان انگلینڈ کے خلاف بطور کپتان 158 رنز کی شاندار اننگز بھی اسی میدان میں کھیلی۔بابر اعظم گزشتہ تین سال سے ٹیسٹ کرکٹ میں سنچری کے منتظر ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا وہ اپنے لیے خوش قسمت ثابت ہونے والے ایجبسٹن گراؤنڈ پر کیریئر کی دسویں ٹیسٹ سنچری مکمل کر پاتے ہیں اور نئی ٹیم کے ساتھ آخری ٹیسٹ جیت کر پاکستان کے لیے نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں؟