کراچی:
پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین میچوں کی سنسنی خیز سیریز کا تیسرا اور فیصلہ کن آخری ٹیسٹ میچ کل سے برمنگھم کے تاریخی ایجسٹن گراؤنڈ میں شروع ہوگا۔ قومی ٹیسٹ اسکواڈ اس وقت سیریز میں کامیابی حاصل کرنے اور اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے بھرپور تیاریوں میں مصروف ہے، تاہم روایتی طور پر یہ میدان گرین شرٹس کے لیے زیادہ سازگار ثابت نہیں ہوا ہے۔ کرکٹ کے ریکارڈز بتاتے ہیں کہ اس گراؤنڈ پر پاکستان ٹیم کی مجموعی کارکردگی مایوس کن رہی ہے اور یہاں فتح حاصل کرنا مہمان ٹیم کے لیے ہمیشہ ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے۔
دوسری جانب، اگرچہ ٹیم کے لیے یہ مقام ماضی میں بدقسمت رہا ہے، لیکن قومی ٹیم کے مایہ ناز بلے باز اور سابق کپتان بابر اعظم کی ذاتی کارکردگی کے حوالے سے یہ گراؤنڈ نہایت خوش بختی کی علامت مانا جاتا ہے۔ بابر اعظم نے اس گراؤنڈ پر ماضی میں شاندار اننگز کھیلی ہیں اور ان کا یہاں کا ریکارڈ ان کی شاندار فارم اور تکنیکی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شائقینِ کرکٹ اور ماہرین کا ماننا ہے کہ بابر اعظم ایک بار پھر اس تاریخی میدان پر اپنی شاندار بلے بازی کے جوہر دکھائیں گے اور پاکستان کو سیریز کے آخری معرکے میں فتح دلانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
قومی سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ نے میچ کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی ہے، جس میں کھلاڑیوں کی فزیکل فٹنس اور پچ کے مزاج کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ برمنگھم کی اس متوقع طور پر چیلنجنگ پچ پر پاکستانی فاسٹ بولرز اور تجربہ کار بلے بازوں کو اپنی ذمہ داریاں انتہائی احسن طریقے سے نبھانا ہوں گی۔ اگرچہ تاریخ پاکستان کے حق میں نہیں ہے، لیکن بابر اعظم کی بہترین فارم اور پوری ٹیم کا عزم اس بات کی نوید دیتا ہے کہ کل سے شروع ہونے والا یہ ٹیسٹ میچ شائقینِ کرکٹ کے لیے یادگار ثابت ہوگا۔