ایرانی جوہری پروگرام: آئی اے ای اے کے پاس معلومات نہیں، مغربی ممالک کا دباؤ

نیویارک:
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے واضح کیا ہے کہ اس وقت ایجنسی کے پاس ایران کے متنازع اور حساس جوہری پروگرام سے متعلق کوئی حتمی یا مصدقہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ایران کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایجنسی کے سربراہ کے اس مؤقف نے عالمی سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں ایک طرف تہران کے مبینہ خفیہ اقدامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بین الاقوامی اداروں کی کارکردگی اور معلومات کی فراہمی پر بھی مباحث جاری ہیں۔

واشنگٹن:
دریں اثنا، مغربی طاقتوں بالخصوص فرانس، جرمنی، برطانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے شدید مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری معاملے کو فوری طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرے۔ ان چاروںمظبوط مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ تہران کی جانب سے مبینہ طور پر عدم تعاون کا رویہ اور شفافیت کا فقدان عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ سلامتی کونسل کو اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے تاکہ ایران پر مزید دباؤ ڈالا جا سکے اور اسے بین الاقوامی معاہدوں کی مکمل پاسداری پر مجبور کیا جا سکے، بصورت دیگر خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔

تہران:
دوسری جانب، تہران کی حکومت نے مغربی ممالک کے ان الزامات اور سلامتی کونسل میں رپورٹ کرنے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی نوعیت کی چال قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا اصرار ہے کہ ان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ آئی اے ای اے کے ساتھ طے شدہ ضابطہ اخلاق کے مطابق تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ مغربی طاقتیں بلاوجہ سیاسی دباؤ بڑھا رہی ہیں جو خطے کے امن و استحکام کے لیے مفید نہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں آئی اے ای اے کا بورڈ آف گورنرز اس نازک صورتحال میں کیا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے اور آیا اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جایا جاتا ہے یا نہیں۔