اسلام آباد:
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کا سارا انحصار خالصتاً عوام کی مرضی اور منشا پر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر عوام اور تمام سیاسی قوتیں نئے صوبوں کے حق میں ہوں گی تو اس پر پیش رفت کی جائے گی، بصورت دیگر اس معاملے پر اصرار نہیں کیا جائے گا، کیونکہ جمہوریت میں عوامی امننگیں ہی سب سے مقدم ہوتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، وفاقی دارالحکومت میں ایک نجی ٹی وی پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی تشکیل کے حوالے سے جاری بحث اور مباحثے کا اصل اور آئینی فورم ملک کی پارلیمنٹ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے حساس اور دور رس نتائج کے حامل فیصلے سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے اندر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مفاہمت اور آئینی دائرہ کار کے اندر رہ کر ہی طے کیے جانے چاہئیں، جہاں ہر صوبے اور خطے کی نمائندگی موجود ہوتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے مزید کہا کہ ملک کو درپیش موجودہ معاشی اور انتظامی چیلنجز کے تناظر میں تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ وفاقی حکومت پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین کے احترام پر یقین رکھتی ہے اور ملک میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام فیصلے قومی اتفاق رائے سے ہی کیے جائیں گے۔