یمن میں شدید لڑائی، اٹھارہ ہزار سے زائد افراد بے گھر

اسلام آباد:
یمن میں سرکاری افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری پرتشدد جھڑپوں اور لڑائی میں خطرناک حد تک شدت آنے کے بعد شہریوں کے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنے کے اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تازہ ترین کشیدگی اور مسلح تصادم کے نتیجے میں اٹھارہ ہزار پانچ سو سے زائد معصوم افراد اپنے آبائی علائقوں سے بے گھر ہو چکے ہیں، جنہیں شدید نوعیت کے انسانی بحران کا سامنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ زدہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی، اسپتالوں کی بندش اور خوراک کی شدید قلت کی وجہ سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ بے گھر ہونے والے خاندانوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچے کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ فوری طور پر امدادی سامان پہنچایا جا سکے، تاہم سیکیورٹی کے خدشات اور راستوں کی بندش بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

دوسری جانب، پاکستان سمیت عالمی برادری نے یمن کی اس ابتر انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں نے فریقین سے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے اور بے گھر ہونے والے لاکھوں شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر سیاسی مذاکرات کا آغاز نہ کیا گیا تو یہ بحران پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔