تیزی سے بڑھتی آبادی صحت کے شعبے کے لیے بڑا چیلنج ہے: وفاقی وزیر صحت

: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی آبادی صحت کے شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، ہم ہر سال نیوزی لینڈ کی مجموعی آبادی کے برابر نئی آبادی پیدا کر رہے ہیں۔اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت شہریوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور ملک کے ہیلتھ کیئر سسٹم کو جدید بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ”احتیاط علاج سے بہتر ہے“ کا اصول حکومت کی صحت پالیسی کا بنیادی محور ہے، کیونکہ صحت مند شہری ہی ایک فعال اور صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے تشویشناک اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں ساڑھے چار کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں، جس پر فوری اور ہنگامی بنیادوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ بیمار ہونے کے بعد علاج پر انحصار کرنے کے بجائے پہلے ہی بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تاکہ خطرناک اور دائمی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ صحت کے شعبے پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ پاکستان میں ہر سال نیوزی لینڈ کی مجموعی آبادی کے برابر نئی آبادی کا اضافہ ہونا ایک انتہائی سنگین چیلنج ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صحت کے موجودہ بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کے انتظامی نظام کو جدید اور مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر معیار کی طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔