پہلا انٹرنیشنل ٹریولرز ویکسینیشن سینٹر قائم، مسافروں کی مشکل آسان

کراچی: پاکستان کے پہلے انٹرنیشنل ٹریولرز ویکسینیشن سینٹر کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے، جس سے حج، عمرہ اور بیرونِ ملک جانے والے مسافروں کو درپیش سنگین مشکلات اور رکاوٹوں کا دیرینہ حل نکل آیا ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کراچی ایئرپورٹ پر فیڈرل گورنمنٹ ڈسپنسری کا دورہ کرتے ہوئے جدید مرکز کا افتتاح کیا، جو میں مسافروں کو صحت سے متعلق تصدیق شدہ، شفاف اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بیرونِ ملک سفر کرنے والے شہریوں کو طبی دستاویزات کے حصول میں آسانیاں فراہم کرنا اور بدعنوانی کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے۔

افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت نے انکشاف کیا کہ ماضی میں چار سے پانچ ہزار روپے کے عوض جعل ساز عناصر کی جانب سے جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کیے جاتے تھے، جن کا اب مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ مسافروں کی سہولت کے لیے ایئرپورٹ پر ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ اور نادرا کا مشترکہ کاؤنٹر قائم کیا گیا ہے جہاں فلو، گردن توڑ بخار (میننجائٹس) اور پولیو کی ویکسینیشن کے فوری بعد نادرا کے سسٹم سے منسلک ایک مستند ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام ویکسینیشن فیس اب آن لائن وصول کی جائیں گی جبکہ ایئرپورٹ پر کسی بھی افسر کو مسافروں کو بلاجواز ہراساں کرنے یا روکنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔

سید مصطفیٰ کمال نے مزید بتایا کہ یہ سہولت بہت جلد مرحلہوار انداز میں ملک بھر کے تمام بین الاقوامی ایئرپورٹس پر بھی نافذ کر دی جائے گی۔ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے سفری ضوابط کے تحت حج، عمرہ اور دیگر اغراض کے لیے گردن توڑ بخار سمیت تمام لازمی ویکسینز کا حصول ناگزیر ہے تاکہ طبی بنیادوں پر مسافروں کو کسی بھی ناخوشگوار صورتحال یا ڈی پورٹیشن کا سامنا نہ کرناپڑے۔ اس کے علاوہ، صحت کے نظام میں جامع اصلاحات لاتے ہوئے تمام شہریوں کے قومی شناختی کارڈ نمبر کو ان کا ‘میڈیکل ریکارڈ نمبر’ بنانے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔

حکومت کے معاشی اور طبی خود انحصاری کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک میں سالانہ لاکھوں ڈالر کی وکسین درآمد کی جاتی ہے، تاہم اس سال تیرہ میں سے دو بنیادی ویکسینز کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے اہم معاہدے طے پا جائیں گے۔ انہوں نے ملک بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی شدید ضرورت پر زور دیا تاکہ علاج معالجے کی بہترین اور معیاری سہولیات بلا تعطل میسر آسکیں۔