افغان وزیر کا بھارت میں بیان، افغانستان اور بھارت کا “ڈی این اے ایک” قرا

نئی دہلی (11 جولائی 2026): افغان عبوری حکومت کے وزیرِ زراعت مولوی عطا اللہ عمری نے بھارت کے دورے کے دوران ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں بھارت آکر ہرگز یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ کسی غیر ملک میں آئے ہیں، بلکہ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے ہی ملک میں موجود ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اور بھارت کا “ڈی این اے ایک” ہے۔وزیرِ زراعت کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد مختلف حلقوں میں اس پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ بعض سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں نے اس بیان کو پاکستان کے اس مؤقف کے تناظر میں دیکھا کہ خطے میں بھارت اور طالبان کے تعلقات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت نے کشمیریوں اور فلسطینیوں کے معاملات پر خاموشی اختیار کی ہے، جبکہ بھارت کے ساتھ بڑھتے روابط اس کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ دوسری جانب بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان وزیر کا بیان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔افغان عبوری حکومت کی جانب سے اس بیان کے حوالے سے مزید وضاحت سامنے نہیں آئی۔