ایران نے امریکا سے مذاکرات کی درخواست کا دعویٰ مسترد کر دیا، نئی امریکی پابندیاں بھی عائد

تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران نے حالیہ کشیدگی کے بعد امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان میں کہا کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی، بلکہ قطر کی ثالثی کی تجویز کو قبول کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی معاہدے (ایم او یو) کی خلاف ورزی کی صورت میں ایران مناسب اور مؤثر جواب دے گا۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی، تاہم امریکا نے واضح کر دیا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ادھر امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی مالیاتی سہولت کار علی انصاری، متعدد شیڈو ایکسچینج ہاؤسز اور ان سے وابستہ افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق علی انصاری مبینہ طور پر مجتبیٰ خامنہ ای سے منسلک عالمی مالیاتی نیٹ ورک کی نگرانی کرتے ہیں، جبکہ بعض ایکسچینج ہاؤسز پابندیوں کا سامنا کرنے والے ایرانی بینکوں کے لیے مالی لین دین میں کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکا نے ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات میں قائم دو کمپنیوں پر بھی نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔