وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت، “حزبِ اختلاف ہمارے بھائی ہیں”

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حزبِ اختلاف کے ارکان ہمارے بھائی ہیں، ان سے کوئی لڑائی نہیں، آئیں بیٹھ کر ملک کے مسائل پر بات کریں، میں بطور وزیراعظم ہر وقت مذاکرات کے لیے تیار ہوں۔قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ملک بھر سے منتخب عوامی نمائندے موجود ہیں اور پاکستان کی بقا و ترقی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پنے خطاب کے دوران انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن ثنا اللہ مستی خیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ان کا پرانا اور بھائیوں جیسا تعلق ہے اور وہ انہیں اچھی طرح جانتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ان کی مفاہمتی پیشکشوں کو مسترد کیا گیا، تاہم وہ آج بھی سیاسی جماعتوں کے درمیان مکالمے کے حامی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وسائل صوبوں کی ملکیت ہیں اور اس معاملے پر کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ وزیراعظم کے مطابق ریکوڈیک منصوبے میں بلوچستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے جبکہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ دوگنا کیا گیا تھا۔وزیراعظم نے بتایا کہ بلوچستان کے کسانوں کو مفت سولر پینلز فراہم کرنے کے منصوبے پر 75 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ صوبے میں ایک اہم شاہراہ کی تعمیر پر 300 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ملکی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مظفر آباد ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے فوجی جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملک کے دفاع کے لیے پاک فوج کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ وطن کے شہداء کی قربانیوں کا احترام کرنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔