نیویارک: ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کے شعبے کی معروف کمپنی اسپیس ایکس نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او (Initial Public Offering) متعارف کرا کے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی۔رپورٹس کے مطابق کمپنی نے اپنے آئی پی او کے ذریعے 75 ارب ڈالرز سے زائد فنڈز جمع کیے، جس کے بعد یہ دنیا کے سب سے بڑے آئی پی اوز میں شامل ہو گئی۔ اسپیس ایکس کے شیئرز کی ابتدائی قیمت 135 ڈالرز فی شیئر مقرر کی گئی، جبکہ 55 کروڑ 55 لاکھ سے زائد شیئرز سرمایہ کاروں کے لیے پیش کیے گئے۔مالیاتی ذرائع کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے 100 ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے آرڈرز موصول ہوئے، جو مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ تھے۔ اس غیر معمولی دلچسپی کے بعد کمپنی کی مجموعی مالیت 1.77 ٹریلین ڈالرز تک پہنچ گئی۔اسپیس ایکس کے شیئرز “SPCX” کے نام سے نیسڈیک پر ٹریڈ ہونا شروع ہوئے، جس کے بعد کمپنی امریکی اسٹاک مارکیٹ کی بڑی پبلک لسٹڈ کمپنیوں میں شامل ہو گئی۔کمپنی نے اپنے 30 فیصد شیئرز عام سرمایہ کاروں کے لیے مختص کیے تھے، جس کے باعث عوامی سطح پر بھی غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ماہرین کے مطابق کمپنی کے پبلک ہونے کے باوجود ایلون مسک کے پاس 82 فیصد ووٹنگ پاور برقرار رہے گی، جس سے کمپنی کے انتظامی اور اسٹریٹجک فیصلوں پر ان کا کنٹرول بدستور قائم رہے گا۔مالیاتی تجزیہ کاروں نے اسپیس ایکس کی موجودہ مالیت اور مستقبل کی ترقی کے امکانات کو تاریخی اور غیر معمولی قرار دیا ہے۔