کوئٹہ: ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب گردی کے واقعے کے بعد بلوچستان حکومت اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال کی گئی، جس پر حکومت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے 23 ڈاکٹرز کو معطل کر دیا۔محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق ہڑتال میں شریک 25 ڈاکٹرز کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں، جبکہ احتجاج میں شامل 4 پوسٹ گریجویٹ طلبہ کی ٹریننگ بھی معطل کر دی گئی ہے۔محکمہ صحت نے معطلی کے نوٹیفکیشنز اور شوکاز نوٹس باضابطہ طور پر جاری کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب گردی کے واقعے کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔واقعے اور اس کے بعد ہونے والی انتظامی کارروائیوں کے باعث حکومت اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کو معطلیوں سے قبل مذاکرات اور اعتماد سازی کی کوشش کرنی چاہیے تھی، جبکہ اصل توجہ ڈاکٹر ماہ نور کیس کی شفاف تحقیقات اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر مرکوز ہونی چاہیے۔