سکھر (ویب ڈیسک): اسٹیپ فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن شائستہ بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ میں سرکاری ملازمتوں کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گریڈ 5 سے 15 تک کی نوکریوں کے لیے گزشتہ چار سالوں کے دوران انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے ٹیسٹ پاس کرنے والے ہزاروں نوجوان آج بھی روزگار کے منتظر ہیں اور دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
شائستہ بلوچ کے مطابق ان ٹیسٹوں کے ذریعے حکومت سندھ نے نوجوانوں سے فیس کی مد میں اربوں روپے وصول کیے، لیکن اس کے باوجود میرٹ پر کامیاب امیدواروں کو تاحال ملازمتیں فراہم نہیں کی جا سکیں، جو ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کے پاس نوکریوں کی کمی نہیں تو اہل اور کامیاب امیدواروں کو نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں کہا گیا تھا کہ سندھ میں نوکریاں نوجوانوں کو تلاش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو وہ نوجوان کہاں جائیں جو باقاعدہ ٹیسٹ پاس کر چکے ہیں اور کئی سالوں سے تقرری کے منتظر ہیں۔
انہوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان کامیاب امیدواروں کو میرٹ پر نوکریاں دی جائیں تاکہ نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی اور مایوسی کا خاتمہ ہو سکے۔
شائستہ بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو متاثرہ نوجوان احتجاج پر مجبور ہو سکتے ہیں۔