وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کی سیاست اور پاکستان دشمن عناصر ایک ہی سمت میں نظر آتے ہیں۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے سخت مارشل لاؤں کا مقابلہ کیا، جبکہ عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی شدید سیاسی جبر برداشت کیا گیا، جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے، رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور میڈیا پر پابندیاں لگائی گئیں لیکن اس سب کے باوجود سیاسی جنگ ہمیشہ آئینی حدود میں رہ کر لڑی گئیانہوں نے کہا کہ آج تک کسی سیاسی جماعت نے بیرون ملک جا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا نہیں کیا، نہ ہی عالمی عدالتوں میں ملک کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ احسن اقبال نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے سیاسی مقاصد بھارت سے ملتے ہیں، کیونکہ آئی ایم ایف پروگرام، پاکستان کا عالمی قد بڑھنا یا امریکا سے بہتر تعلقات ان سب پر پی ٹی آئی اور بھارت کو تکلیف ہوتی ہےانہوں نے 9 مئی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہداء کی یادگاروں کی توہین اور فوجی تنصیبات پر حملے کسی سیاسی شعور کا حصہ نہیں ہو سکتے۔ احسن اقبال کے مطابق پی ٹی آئی ریاستی مفادات کے خلاف سیاست کر رہی ہے، اور امریکا میں بھارت نواز و اسرائیل نواز لابیوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف قراردادیں منظور کروائی گئیں وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سیاسی بیانیے کے پیچھے ناکام گورننس چھپائی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو دہشت گردی کنٹرول کرنے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے لیکن صوبہ دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی میں ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے عمران خان کا نام استعمال کیا جاتا ہے، مگر عوام حقیقت جان چکے ہیں، جس کا ثبوت ہری پور کے ضمنی انتخابات ہیں جہاں عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کر دیا۔