اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے معاملے پر نیا تنازع سامنے آگیا ہے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے ملنے سے انکار کردیا ہے اور وہ اس وقت کسی سے ملاقات نہیں کر رہےایڈووکیٹ جنرل کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، علیمہ خانم اور وکلاء ملاقات کے بغیر ہی چیف جسٹس کے سیکریٹری آفس سے واپس لوٹ آئےمیڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ “ہماری بات نہیں سنی گئی، چیف جسٹس کی جانب سے پیغام ملا کہ آپ سے نہیں مل کت عدالتی حکم کے باوجود انہیں اور دیگر رہنماؤں کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی دوسری جانب معاونِ خصوصی اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے بتایا کہ ملاقات نہ ہونے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے رات بھر احتجاجی دھرنا دیا، اور صبح دوبارہ چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے ہائیکورٹ پہنچے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ تمام آئینی، قانونی اور جمہوری طریقے اختیار کر چکے ہیں شفیع جان کا کہنا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور پنجاب حکومت خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھ رہے ہیں، جبکہ منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ ناروا سلوک جمہوریت کو مزید کمزور کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ “وفاق اور پنجاب کا ماحول جمہوری نہیں بلکہ آمریت کا تاثر دے رہا ہے، اب ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں بچا، اس لیے ہم عوامی عدالت سے رجوع کریں گے۔