انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں علیمہ خانم کے ساتویں بار ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔سماعت جج امجد علی شاہ نے کی، جہاں مقدمے میں نامزد 10 ملزمان پیش ہوئے تاہم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خانم عدالت میں پیش نہ ہوئیں۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ اپنی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پراسیکیوشن کے پانچ گواہان بھی اے ٹی سی پہنچے۔دورانِ سماعت علیمہ خانم کے بینک اکاؤنٹس سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق مختلف بینکوں میں موجود ان کے 12 اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے، جن میں سے ایک اکاؤنٹ میں ایک کروڑ 24 لاکھ روپے سے زائد رقم موجود ہے۔عدالتی حکم کی عدم تعمیل پر دو بینکوں کے منیجرز کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے جبکہ اکاؤنٹس منجمد نہ کرنے پر دو بینکوں کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کیے گئے۔پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خانم کھلے عام عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور جان بوجھ کر ٹرائل کو تاخیر کا شکار بنا رہی ہیں۔ عدالت نے عمران خان کی ہمشیرہ کی جائیدادوں کی تفصیلات ڈی جی پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی، چیئرمین سی ڈی اے، کمشنر اسلام آباد، سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور ایس ای سی پی سے طلب کر لیں۔اے ٹی سی نے پراسیکیوشن کی استدعا پر دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔