سعودی عرب میں عمرہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے نئی شرائط کا اعلان

سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ نے عمرہ زائرین کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے سات نئی شرائط تجویز کی ہیں جن پر عمل کے بعد ہی لائسنس جاری کیا جائے گا۔کمپنی سو فیصد سعودی شہری کی ملکیت میں رجسٹرڈ ہونی چاہیے۔کمپنی کا کم از کم سرمایہ پانچ لاکھ ریال ہونا لازمی ہے۔لائسنس کے لیے درخواست کے ساتھ غیرمشروط بینک گارنٹی منسلک کی جائے جس کی تصدیق سعودی مرکزی بینک کرے گا۔کمپنی کی جانب سے آپریشنل فیلڈ اور پلان کی تحریری تفصیلات فراہم کی جائیں جن میں بجٹ، افرادی قوت اور دیگر معلومات شامل ہوں۔اگر کسی کمپنی کی جانب سے لائسنسنگ ضوابط کی خلاف ورزی کی جائے تو وزارت کو اختیار ہوگا کہ وہ لائسنس معطل کرے، تاہم کمپنی کو 30 دن کی مہلت دی جائے گی تاکہ خلاف ورزی درست کی جاسکے۔ہر ادارے کو اپنے مالی معاملات پورے کرنے کی صلاحیت ثابت کرنا ہوگی۔ عہدوں میں تبدیلی یا نیا عہدیدار مقرر ہونے کی صورت میں وزارت کو تحریری طور پر اطلاع دینا لازمی ہوگا۔کمپنی کے مالک کے انتقال یا ڈیفالٹ کی صورت میں وزارت کو مطلع کرنا ہوگا اور ایسی صورت میں لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔مزید یہ کہ اگر لائسنس کسی دوسرے کے نام پر منتقل یا لیز پر دیا گیا تو وزیرِ حج کو لائسنس منسوخ کرنے کا مکمل اختیار ہوگا۔وزارت کے مطابق اگر ایک برس تک جاری شدہ لائسنس پر کوئی عمل درآمد نہ کیا گیا تو وہ ختم تصور ہوگا، البتہ کمپنی کی جانب سے مناسب وجوہات پیش کیے جانے پر 6 ماہ کی مہلت دی جاسکے گی۔ مہلت ختم ہونے کے بعد لائسنس مستقل طور پر منسوخ کردیا جائے گا۔سرخی:سعودی عرب کی وزارتِ حج کی نئی شرائط — عمرہ کمپنیوں کے لیے لائسنس کا حصول مزید سختکیا آپ چاہیں گے کہ میں اس خبر کا مختصر یوٹیوب ویڈیو اسکرپٹ بھی اردو میں لکھ دوں؟