صدارتی دفتر کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے امریکی صدر کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق، روس نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے جوہری پابندی کی خلاف ورزی کی تو روس بھی اسی نوعیت کا اقدام کرے گا۔دیمتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ حالیہ بورویستنک کروز میزائل اور پوسائیڈن جوہری ٹارپیڈو کے تجربات جوہری ہتھیاروں کے تجربات نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے امریکی صدر ٹرمپ کو روس کے تازہ ترین جوہری صلاحیت والے ہتھیاروں کے بارے میں درست بریفنگ دی گئی ہوگی۔کریملن ترجمان نے مزید کہا کہ روس نے 1990 کے بعد سے کسی بھی تصدیق شدہ جوہری ہتھیار کا تجربہ نہیں کیا، لیکن اگر کوئی دوسرا ملک عالمی سطح پر عائد پابندی توڑتا ہے تو روس بھی ویسا ہی جواب دے گا۔