بیروت میں جنوبی لبنان پر اسرائیل کے حملے میں شہید ہونے والی لبنانی خاتون صحافی امل خلیل کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ انہیں آہ و سسکیوں کے درمیان سپردِ خاک کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق نماز جنازہ بیساریہ میں ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق امل خلیل نے زخمی ہونے کے بعد اپنے والدین اور لبنانی فوج کو فون کیا تھا۔ وہ ساتھیوں کے ساتھ تقریباً 7 گھنٹے تک ملبے تلے دبی رہیں، جبکہ امدادی ٹیموں کو بھی اسرائیلی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔لبنان کے صدر نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی صحافیوں پر حملے حقائق چھپانے کی کوشش ہیں۔دوسری جانب لبنانی وزیرِ اعظم نواف سلام نے اس واقعے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا سچ کو دبانے کے مترادف ہے۔