صوبائی وزیر مخدوم محبوب الزمان نے ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 حیدرآباد کی نئی بلڈنگ کا افتتاح کردیا

 صوبائی وزیر برائے بحالی امور اور چیئرمین پی ڈی ایم اے سندھ مخدوم محبوب الزمان نے آج نیاز اسٹیڈیم کے نزد ڈسٹرکٹ اسٹیشن سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 حیدرآباد کی نئی بلڈنگ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مخدوم محبوب الزمان کو ریسکیو 1122 ڈائریکٹر جنرل عابد جلال الدین شیخ کی جانب سے ایمرجنسی آپریشن کنٹرول روم، ریکسیو مشینری, فائر برگیڈ سمیت دیگر آلات کے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر برائے بحالی امور مخدوم محبوب الزمان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکے سندھ میں ایمرجنسی ریسکیو سروس حکومت سندھ کی اولین ترجیحی ہے – انہوں نے کہا کہ کراچی میں 1122 ایمرجنسی سروس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول یونٹ کی کارکردگی کو دیکھ کر اس کی سروسز کو مزید پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے اور آج حیدرآباد ایمرجنسی ریکسیوکمانڈ اینڈ کنٹرول یونٹ کا افتتاح کیاہے۔ صوبائی وزیر نے کہاکے کراچی سمیت اب ہم ڈی ایچ اے کے شہریوں کو بھی یہ سروسز فراہم کررہے ہیں, کراچی کے کچھ علاقوں میں آگ لگنے اور بلڈنگ گرنے کے افسوسناک واقعات ہوتے ہیںجس میں ایمرجنسی ریسکیو 1122 نے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے – اس ریسکیو ایمرجنسی سروس 1122کو سندھ کے تمام اضلاع تک پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کے یہ نیا ادارہ ہے، اس میں کام کرنے والے فائر فائیٹرز، غوطہ خوروں اور دیگرکام کرنے والے رضاکاروں کے لیئے انشورنس کا منصوبہ بھی لارہے ہیں جس کی سندھ کابینہ سے منظوری لی گئی ہے, حیدرآباد یونٹ کو بھی جلد ہم اسنارکل فراہم کردینگے- انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے خودمختیار ہیں اپنے اداروں میں قانون سازی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکے سندھ کے پانی پر ہمارا واضح موقف ہے ہم اس پر قائم ہیں, ارسا ایکٹ کے جو آرٹیکل ہیں وہ پانی کی منصفانہ تقسیم پر واضح ہیں. اگر چولستان کو پانی دینا ہے تو سندھ ضلع تھر کو پانی فراہم کرنے کے ماڈلز کو بھی اپنایا جانا چاہیے, ضلع تھر کو کیسے پانی فراہم کیا ہے وہ طریقہ کار اختیار کیاجاسکتا ہے- صوبائی وزیر نے کہا کے انہوں نے تھر کو ماڈل ڈیسرٹ ایریا بنایا ہے جبکہ کینالز کا منصوبہ ہم شروع ہونے نہیں دیں گے۔ مخدوم محبوب الزمان نے کہاکے سیاسی معاملات الگ اور صدارتی آفس کے اختیارات الگ ہوتے ہیں, ہم سیاسی مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں بیٹھ کر بات چیت کرنے کو ترجیح دینا مناسب سمجھتے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہاکے پاکستان کی ترقی میں جن لوگوں نے رکاٹ ڈالنے کے لیئے ملک مخالف بیانیہ اپنایا ہواہے جس کے سبب بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہورہی ہے اور اس عمل سے ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام بھی پیدا ہورہاہے۔