مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کو مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہونے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکراتی ٹیم حکومت سے پہلے عمران خان سے مذاکرات کرے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ ’ پہلے آپ خود یکسو ہوجائیں، 7 آدمی پہلے خود مل بیٹھیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں، پھر وہ خان صاحب کے پاس چلے جائیں اور ان کو سمجھائیں، ہم سے مذاکرات سے پہلے خان صاحب سے مذاکرات کی ضرورت ہے، انہیں قائل کریں کہ اب کیا کرنا ہے’ انہوں نے مزید کہا کہ ’ ورنہ ہوگا یہ کہ وہ آئیں گے، بات چیت کریں گے، مصالحت بھی ہوجائے گی، ہم ان کی بات مان جائیں گے، وہ ہماری بات مان جائیں گے، لیکن جب وہ اڈیالہ جائیں گے تو کہا جائے گا تم کون ہو؟’۔ وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ پی ٹی آئی میں سنجیدگی نظر نہیں آتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک وقت میں بانی پی ٹی آئی سمیت ان کے 6،6 بیانات آتے ہیں، جب ہمیں پتہ چلے گا کہ وہ ثمر آور گفتگو کرنے کے لیے تیار ہیں اور سنجیدہ رابطہ چاہتے ہیں تو ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اختلافات ختم کرنے کے لیے بات چیت ضروری ہے اور اس کے لیے میرا دفتر ہر وقت حاضر ہے۔ ایاز صادق نے کہا کہ اسپیکر کا دفتر اور گھر حکومت اور اپوزیشن کا ہوتا ہے، اسپیکر کے دروازے ہر وقت اپنے اراکین کے لیے کھلے رہتے ہیں، چاہے ایوان کی کارروائی چل رہی ہو یا نہیں۔