یورپی یونین کے تعاون سے صوبہ سندھ میں غذائی قلت کے خاتمے کے لیے کانفرنس کا انعقاد

صوبہ سندھ میں غذائی قلت کی سنگین صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے یورپی یونین کے تعاون سے ایک اہم پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت سندھ کے مختلف اضلاع میں غذائی قلت کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف تنظیموں اور سرکاری محکموں کے درمیان تعاون کو مضبوط کیا جا رہا ہے اس پروگرام کے تحت، اسٹرینتھننگ پارٹسپٹری آرگنائزیشن (SPO)، انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (IRC)، اور میڈیکل ایمرجنسی ریزیلینس فاؤنڈیشن (MERF) کے اشتراک سے ایک صوبائی نیٹ ورکنگ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس ورکشاپ میں حکومت سندھ کے مختلف محکموں، عالمی ادارہ صحت، سول سوسائٹی تنظیموں اور مقامی تنظیموں نے شرکت کی، جس کا مقصد سندھ میں غذائی قلت کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید فروغ دینا تھا سندھ میں پانچ سال سے کم عمر آبادی کے تقریباً نصف بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ان کی صحت اور نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد ان بچوں اور خواتین کو غذائی مدد فراہم کرنا ہے جو اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ورکشاپ کے دوران، شرکاء نے غذائی قلت کے مسائل پر بات کی اور اس کے حل کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کیا۔ اس موقع پر، پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سندھ کے پلاننگ آفیسر ڈاکٹر ندیم میر بدر اور اے اے پی ٹاسک فورس کے نیوٹریشن کنسلٹنٹ ڈاکٹر صاحب جان بدر نے اس پروگرام کی تعریف کی اور یورپی یونین کے تعاون سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رنومل لوہانو نے نیٹ ورکنگ اور مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سندھ میں غذائی قلت کے مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔ انہوں نے پالیسی ایڈووکیسی، سماجی رویے میں تبدیلی، اور سہولت پر مبنی غذائی خدمات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی یہ پروگرام دو سالہ منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت سندھ کے پانچ متاثرہ اضلاع (کشمور، گھوٹکی، سکھر، خیرپور، اور نوشہرو فیروز) میں غذائی علاج کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور غذائیت کے پروگراموں کی کمیونٹی تک رسائی کو بڑھایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 245,000 خواتین اور 415,000 بچوں کو غذائی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔