اسلام آباد: پاکستان میں جان بچانے والی دوا انسولین کی مقامی تیاری کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں روسی فارماسیوٹیکل کمپنی “زاؤڈ میڈسنٹ” نے پاکستان میں انسولین ساز فیکٹری قائم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہےذرائع کے مطابق روسی کمپنی پاکستانی ادارے “جینیٹکس فارما” کے اشتراک سے مشترکہ منصوبہ شروع کرے گی، جس کے تحت مجموعی طور پر 80 ملین ڈالر سرمایہ کاری کی جائے گی۔منصوبے کے پہلے مرحلے میں دسمبر 2028 تک 20 ملین ڈالر کی لاگت سے انسولین فلنگ اور بائیولوجیکل یونٹس قائم کیے جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں دسمبر 2031 تک مزید 60 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے انسولین کی مکمل تیاری اور خام مال کی پیداوار کا پلانٹ لگایا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت نہ صرف انسولین بلکہ اس کا خام مال بھی پاکستان میں تیار کیا جائے گا، جس سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا اور ملک کو قیمتی زرمبادلہ کی بچت حاصل ہوگی۔روسی کمپنی دوسرے مرحلے میں جدید ٹیکنالوجی بھی پاکستان منتقل کرے گی، جبکہ مکمل پلانٹ کی تعمیر میں 3 سے 5 سال لگنے کا امکان ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس سے انسولین کی قیمتوں میں کمی، روزگار کے نئے مواقع اور فارماسیوٹیکل شعبے میں خود کفالت کو فروغ ملے گا۔