توشہ خانہ کیس، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے فرد جرم عائد کرنے کیلئے عمران خان کو 10 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ ایڈیشنل سیشن جج ہمائیوں دلاور نے عمران خان کی درخواستیں خارج کر دی۔ سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی دونوں درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔عدالتی دائرہ اختیار، الیکشن کمیشن درخواست ناقابلِ سماعت ہونے سے متعلق درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔عدالت نے کہا کہ 10 مئی کو توشہ خانہ کیس میں عمران خان پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کیلئے عمران خان کو 10 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان 10 مئی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، 10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔قبل ازیں نیب نے توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے جمع میں کہاتھا کہ عمران خان کسی ریلیف کے مستحق نہیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے ’’ کلین ہینڈز ‘‘ کے ساتھ ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کیا۔عمران خان کو سوالنامہ بھیجا گیا مگر جواب نہیں دیا گیا جبکہ وہ طلبی کے نوٹس پر بھی پیش نہیں ہوئے۔ نیب کے مطابق سابق وزیراعظم کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی،عمران خان جان بوجھ کر معاملے کو التوا میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ تحقیقات کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست خارج کی جائے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس عمران خان اور بشریٰ بی بی کی نیب تحقیقات کیخلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر محفوظ فیصلہ سنایا تھا اورنیب کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی نیب تحقیقات کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دئیے کہ نیب نوٹس میں نہیں بتایا گیا کس حیثیت میں تفصیلات مانگی جا رہی ہیں،عدالتی فیصلہ آ چکے ہیں کہ نوٹس کی مکمل معلومات دینا ضروری ہے۔نیب پر لازم ہے کہ وہ مکمل معلومات فراہم کرے،نیب کے پرانے قانون کے ہوتے ہوئے یہ فیصلے آ چکے تھے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ابھی جو نیب کے قانون میں ترامیم ہوئیں،اس میں نوٹس کا کیا طریقہ کار ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ترمیمی قانون کہتا ہے بتانا لازم ہے کہ آپ کو کیوں بلا رہے ہیں،ترمیمی قانون کے تحت بتانا ہو گا کہ کسی کو بطور ملزم بلایا یا دوسری وجہ پر بلایا۔