اسلام آباد: 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ‘دی رپورٹرز’ میں اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ترمیم نوشتہ دیوار ہے اور نئے سال سے پہلے متوقع ہے۔ حذیفہ رحمان نے مزید کہا کہ اس ترمیم کے ڈرافٹ پر بہت کام ہو چکا ہے اور یہ ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
حذیفہ رحمان نے اس بات پر زور دیا کہ 28ویں آئینی ترمیم کی ضرورت اس وقت محسوس کی گئی جب ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت بڑھ گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم نہ صرف آئینی اصلاحات کی راہ ہموار کرے گی بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔ اس ترمیم کے ذریعے حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوامی خدمات میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس ترمیم کی تیاری میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کی گئی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ترمیم ملک کے تمام حصوں کی ضروریات کو پورا کرے۔ حذیفہ رحمان نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئے سال کے آغاز سے پہلے یہ ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی، جس کے بعد اس کی منظوری کے لیے ووٹنگ کی جائے گی۔
یہ ترمیم ملک کی آئینی تاریخ میں ایک اہم باب کا اضافہ کرے گی اور اس کے ذریعے حکومت کی کارکردگی میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے یہ ترمیم ایک مثبت قدم ثابت ہوگی، جس کا انتظار عوام اور سیاسی حلقوں میں بے چینی سے کیا جا رہا ہے۔