اسلام آباد: AI حاضری نظام کے تحت 72 مزید ڈاکٹروں کی برطرفی نے بلوچستان کے صحت کے شعبے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ برطرفیاں حکومت کی جانب سے نافذ کردہ ایک جدید نظام کے تحت کی گئی ہیں، جس کا مقصد طبی عملے کی حاضری کو یقینی بنانا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں اب تک 200 صحت کے ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔
بلوچستان کے صحت کے محکمے نے ہفتے کے روز یہ فیصلہ کیا، جس کے تحت ڈاکٹروں کی طویل غیر حاضری کو بنیاد بنایا گیا۔ یہ نظام مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ہے، جو کہ حکومت کی جانب سے طبی عملے کی حاضری کی نگرانی کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ اس نظام کا مقصد یہ ہے کہ طبی عملہ باقاعدگی سے اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہو تاکہ عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صحت کے نظام میں بہتری لانے کے لیے ضروری تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف ڈاکٹروں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کی صحت کی سہولیات میں بھی بہتری آئے گی۔ یہ برطرفیاں اس وقت کی گئی ہیں جب صوبے میں صحت کے نظام کی بہتری کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس نظام کی کامیابی کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ طبی عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، برطرف کیے گئے ڈاکٹروں کے خلاف مزید کارروائیاں بھی متوقع ہیں۔ یہ صورتحال صحت کے شعبے میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔