اسلام آباد: مصنوعی ذہانت کی مدد سے 20 سال قبل چوری ہونے والی پینٹنگ کا سراغ لگایا گیا ہے۔ یہ ایک حیران کن واقعہ ہے جس نے فنون لطیفہ کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ پولیس کے جدید نظام نے صرف چند گھنٹوں میں اس پینٹنگ کی شناخت کی، جو ایک نوجوان خاتون کی تصویر تھی، جس نے فیروزی اور سرخ رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا اور ہاتھ میں جزوی طور پر کھلا ہوا ایک طومار تھامے ہوئے تھی۔
یہ پینٹنگ، جو دو دہائیوں قبل چوری ہوئی تھی، اس وقت کی ایک مشہور فنکارہ کی تخلیق تھی۔ اس کی چوری نے نہ صرف فن کی دنیا میں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھی ایک بڑا سوال اٹھایا تھا کہ آخر کار اس قیمتی فن پارے کا کیا ہوا۔ جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، نے اس معاملے کی تحقیقات میں ایک نئی روشنی ڈالی ہے۔
پولیس نے اس پینٹنگ کی شناخت کے لیے جدید الگورڈمز کا استعمال کیا، جو کہ مختلف ڈیٹا بیسز میں موجود معلومات کو ملا کر کام کرتے ہیں۔ اس عمل میں، پینٹنگ کی خصوصیات، رنگوں اور طرز کی بنیاد پر اس کی شناخت کی گئی۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف چوری شدہ اشیاء کی شناخت میں مددگار ثابت ہوئی بلکہ اس نے فنون لطیفہ کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہم ماضی کے کئی رازوں کو جان سکتے ہیں اور فنون لطیفہ کی دنیا میں ہونے والی چوریوں کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ ایک نیا دور ہے جہاں ٹیکنالوجی اور فن کا ملاپ ہمیں نئے امکانات فراہم کرتا ہے۔