غیر فعال کمپنیوں کی بینک اکاؤنٹس

غیر فعال کمپنیوں کی بینک اکاؤنٹس کھولنے پر پابندی

اسلام آباد: غیر فعال کمپنیوں کی بینک اکاؤنٹس کھولنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پاکستان کے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SECP) نے ہفتہ کے روز 39,704 کمپنیوں کو “رجسٹرار کی جانب سے غیر فعال” قرار دیا ہے، جو کہ چار سال تک سالانہ گوشوارے اور/یا مالیاتی بیانات جمع نہ کرانے کی وجہ سے ہے۔ یہ اقدام کارپوریٹ رجسٹر کی ساکھ کو بہتر بنانے اور غیر فعال کمپنیوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

SECP کے مطابق، یہ فیصلہ کمپنیوں کی شفافیت کو بڑھانے اور مالیاتی نظام میں بہتری لانے کے لیے اہم ہے۔ غیر فعال حیثیت رکھنے والی کمپنیوں کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنا ممکن نہیں ہوگا، جس سے ان کی سرگرمیوں کی نگرانی میں آسانی ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری ماحول کو بہتر بنانا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔

کمپنیوں کی غیر فعال حیثیت کا یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب ملک میں کاروباری سرگرمیوں کی نگرانی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ SECP نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام صرف ان کمپنیوں کے لیے ہے جو طویل عرصے سے غیر فعال ہیں اور جنہوں نے اپنے قانونی فرائض کی پاسداری نہیں کی۔

یہ پابندی نہ صرف کمپنیوں کی کارکردگی کو متاثر کرے گی بلکہ بینکنگ سیکٹر میں بھی ایک مثبت تبدیلی لائے گی۔ اس کے نتیجے میں، بینکوں کو غیر فعال کمپنیوں کے ساتھ مالی معاملات میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہوگی۔