اسلام آباد: بٹ کوائن کی قیمت اکتوبر میں 12 سال کی بدترین کارکردگی کا سامنا کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں، بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 77,000 ڈالر کے قریب دباؤ میں رہی ہے، جس کی وجہ عالمی ٹیکنالوجی اسٹاک میں فروخت کا دباؤ ہے۔ اس دوران، بٹ کوائن کی قیمت میں 1.1 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
نیز، نیسڈک کمپوزٹ انڈیکس میں 2.5 فیصد کی کمی آئی ہے، جو کہ تقریباً 25,500 کی سطح پر پہنچ گیا ہے، جو کہ اگست کے اوائل کے بعد کا سب سے کم سطح ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سونے کی قیمت بھی کم ہوئی ہے، جو کہ ایک سال میں اپنی کم ترین سطح 3,891 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی ہے۔
یہ صورتحال بٹ کوائن کے سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ عالمی مالیاتی مارکیٹ میں عدم استحکام اور ٹیکنالوجی اسٹاک کی فروخت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو بٹ کوائن کی قیمت مزید نیچے جا سکتی ہے۔
اس کے باوجود، کچھ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ ایک عارضی صورتحال ہے اور بٹ کوائن کی قیمت جلد ہی مستحکم ہو سکتی ہے۔ تاہم، موجودہ حالات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔