لندن: بائننس کے اربوں ڈالر چوری کے واقعے نے عالمی کرپٹو مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے چوری ہونے کے بعد سائبر سکیورٹی ماہرین نے ممکنہ ماسٹر مائنڈ کی تلاش شروع کر دی ہے۔ یہ چوری بائننس کے سیکیورٹی نظام میں ایک بڑی خامی کے باعث ہوئی، جس نے سرمایہ کاروں کے درمیان بے چینی پیدا کر دی ہے۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ اس چوری کے پیچھے شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپ ‘ٹریڈر ٹریٹر’ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ اس گروپ کی سرگرمیاں پہلے بھی کئی بار مشکوک رہی ہیں، اور اب یہ چوری ان کی مہارت کی ایک اور مثال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سیکیورٹی کے مسائل کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔
بائننس نے اس چوری کے بعد فوری طور پر اپنی سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید مضبوط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ صارفین کی مدد کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ اس واقعے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ بائننس اس بحران سے کس طرح نکلتا ہے۔
اس چوری کے نتیجے میں عالمی سطح پر کرپٹو مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بائننس اس مسئلے کو جلد حل نہیں کرتا تو اس کے اثرات طویل مدتی ہو سکتے ہیں۔