اسلام آباد: فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں خطرناک اضافہ کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں بجلی صارفین کے ماہانہ بل میں 6 ہزار روپے تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینوں میں یہ ایڈجسٹمنٹ 2 سے 3 گنا بڑھنے کی توقع ہے، جو کہ صارفین کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ ثابت ہو سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث یہ ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہو چکی ہے۔ صارفین کو اس بات کا سامنا کرنا پڑے گا کہ ان کے بجلی کے بل میں غیر متوقع طور پر اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ ان کی روزمرہ کی زندگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ایڈجسٹمنٹ اسی رفتار سے جاری رہی تو آنے والے مہینوں میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال کا فوری حل نکالے تاکہ عوام کو اس مالی دباؤ سے بچایا جا سکے۔
اس صورتحال پر عوامی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے، جہاں لوگ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔ اگرچہ حکومت نے اس معاملے پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن عوام کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔