معروف عالمی جرائد کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ خطے کے دفاع کے لیے نئی بنیاد رکھ چکا ہے۔بلومبرگ اور آذربائیجان کے جریدے کالیبر کی رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ خطے کی اہم طاقتوں کو ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں جوڑتا ہے، جس کے تحت بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اس بات کا اعتراف ہے کہ خطے کے ممالک کو اب نئے شراکت داروں اور نئی علاقائی صف بندیوں کی ضرورت ہے۔آذربائیجانی جریدے کالیبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی دفاعی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔بلومبرگ کا کہنا ہے کہ معاہدے کا بنیادی مقصد علاقائی نظام میں موجودہ انتشار کو روکنا ہے۔کالیبر نے اپنے تجزیے میں پاکستان کی جوہری صلاحیت اور افرادی قوت کو اس معاہدے کے لیے اہم دفاعی طاقت قرار دیا ہے۔ جریدے کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے خطے میں امن کے ضامن اور ایک فعال سیکیورٹی فراہم کنندہ کے طور پر بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔