سعودیہ اور حوثیوں کی ثالثی کی پیشکش کا جواب نہیں آیا، یہ بات ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ صورتحال اس وقت پیش آئی ہے جب عالمی برادری اس تنازع کے حل کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ سے یمن کے مسئلے کے حل کے لیے ثالثی کی حمایت کرتا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بات چیت کا آغاز ضروری ہے تاکہ اس تنازع کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت یمن میں انسانی بحران کی شدت بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ایران کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کے باوجود، سعودی عرب اور حوثیوں کی خاموشی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی ہے۔ عراقچی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس اہم مسئلے پر کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں فریقین مذاکرات کی میز پر نہیں آتے تو یمن کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یمن میں جاری جنگ نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے، اور اس کے نتیجے میں انسانی بحران نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ عراقچی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے مزید کوششیں کرے تاکہ یمن کے عوام کو اس بحران سے نکالا جا سکے۔