ملیر جیل قیدی کی خودکشی کی کوشش نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ 17 سالہ قیدی عدیل نے عطر کی شیشی کا ایک ٹکڑا نگل لیا، جس کے بعد اسے فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق، عدیل کی حالت تشویشناک تھی اور اس نے اپنی پریشانی اور دل برداشتگی کی وجہ سے یہ انتہائی اقدام اٹھایا۔پولیس کے مطابق، عدیل نے جیل میں اپنے حالات کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر یہ قدم اٹھایا۔ اس کے ساتھی قیدیوں نے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے ذہنی دباؤ میں تھا اور اس کی حالت دن بدن بگڑ رہی تھی۔ اس واقعے نے جیل کے نظام اور قیدیوں کی ذہنی صحت کے مسائل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔جیل کے حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا عدیل کو مناسب طبی مدد فراہم کی گئی تھی یا نہیں۔ اس واقعے نے ملیر جیل میں قیدیوں کی زندگی کی مشکلات کو اجاگر کیا ہے، جہاں بہت سے قیدی ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قیدیوں کی ذہنی صحت پر توجہ دینا کتنا ضروری ہے۔ اگرچہ عدیل کی حالت اب بہتر ہو رہی ہے، لیکن اس واقعے نے جیل کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت کو واضح کر دیا ہے۔